پانی پانی
- عارف قریشی
ماہرین کہہ رہے ہیں کہ آئندہ دنیا میں جو بھی جنگیں ہو نگی وہ پانی پر لڑی جائیں گی۔ کیونکہ عالمی مدوجزر کو ملحوظ خاطر رکھ کر ہم جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اس کا آغاز ہو چکا ہے۔ کیونکہ عالمی حدت میں اضافے کی وجہ سے دنیا کے ممالک کو مختلف قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک تو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے سیلاب تباہ کاریاں لائیں گے۔ایک طرف تو کئی سالوں سے جمے ہوئے گلیشئیر پگھلنا شروع ہو رہے ہیں اور دوسری طرف قحط پڑھنے کے آثار نظر آرہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا میں پانی کے ذخائر تیزی سے ختم ہونا شروع ہو چکے ہیں عالمی ماہرین کی ایک ٹیم نے دنیا کے مختلف علاقوں کا جائزہ لے کر ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس کے مطابق پانی کےذخائر میں چونتیس فی صد کمی واقع ہو چکی ہے۔ اگر ہم دنیا کی صورتحال کا بغور جائزہ لیں تو یہ امر کھل کر سامنے آ رہا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک پانیوں پر قبضے کا آغاز کر چکے ہیں۔ جس کا اندازہ صرف اس بات سے ہو سکتا ہے کہ اسرائیل نے شام کے پانی کے ذخائز پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہ اس کو کسی صورت میں ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
گولان کا پہاڑی سلسلہ پانی کے ذخائر سے مالا مال ہے جس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے اسی طرح بھارت نے مختلف ڈیم بنا کر پاکستان کے پانیوں کو روک کر سندھ طاس معاہدے کو عملی طور پر ختم کر دیا ہے ان کا مقصد صرف پانی اپنے علاقوں تک پہنچانا ہے۔ اس کے علاوہ سیاچن گلیشئر پر قبضہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اسی طرح چین اور بھارت میں میں لداخ کے پانی کے ذخائر پر اختلاف ہے۔ بلکہ جنگ بھی ہو چکی ہے اور بنگلہ دیش کے دریا پر بھی بھارت نے ڈیم بنانا شروع کر دیا ہے۔
آسٹریلیا نے عالمی سامراجی قوتوں کی مدد سے انڈونیشیا کے ایک پانی سے پر جزیرے ایسٹ تیمور کو آزاد کروایا ہے ان کا مقصد آئندہ پانی کا استعمال ہے۔ ایتھوپیا نے اریٹیریا اور صومالیہ کے علاقوں پر پانی کے تصرف کی وجہ سے قبضہ کیا ہو ا ہے۔
|