قبائل میں ریاست کی اپنی سیاست پرخونی یلغار -   معظم کاظمی

پاکستانی فوج کی اپنے ہی ملک کو بار بار فتح کرنے کی تاریخ تو بہت پرانی ہے لیکن اپنی عوام پر خونی جارحیت مسلط کرنا اب شروع کیا ہے۔ ویسے تو آج پورا پاکستان ہی خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے لیکن قبائل اور وزیرستان جہاں خصوصی طور پر آج کل پاکستانی ریاست اپنی ہی سیاست سے دست گریباں ہوکر خون ریزی کا اکھاڑا بن چکی ہے اور پاکستانی فوج نے صدر پرویز مشرف اور اشفاق کیانی کی قیادت میں اپنے ہی ملک میں وزیرستان کی نہ ختم ہونے والی جنگ شروع کررکھی ہے۔

دوہزار دو سے شروع ہونے والی یہ جنگ آج شدید ترین اور بھیانک شکل اختیار کرچکی ہے وزیرستان کا مقتل آج پاکستانی فوج اور اسلامی بنیاد پرستی کی دہشت گردی نے سجایا ہے یہ انفرادی دہشت گردی پر منظم ریاستی دہشت گردی کی یلغار ہے جہاں عوام کی کم بختی زیادہ آئی ہے پہلے سے بھوک ننگ اور پسماندگی میں تکلیف دہ زندگی گزار نے والی بےقصور عوام آج ان دونوں رجعتی دہشت گردیوں کی خونی بھینٹ چڑھ رہی ہی۔ جبکہ عوام کا تعلق نہ تو اسلامی انتہا پسندی اور نہ ہی ریاستی تشدد پسندی سے ہے۔ لیکن یہ مظلوم عوام مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کاامریکہ اور سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور سرداروں کی کٹھ پتلی اور کھلونا بننے کی سزا بھگت رہے ہیں۔ جنہوں نے اپنے مالیاتی مفادات کے لیے پورے پاکستان کو تباہی اور بربادی کی کھائی میں دھکیل دیا ہے بم دھماکے، آٹے، روٹی کی قلت، بجلی کی لوڈشیڈنگ، انسانی بنیادی ضررویات زندگی کا قحط عوام کا مقدر بنا دیا ہے۔

شوکت عزیر خود تو بڑے مزے سے اپنی سامراجی جوب پر واپس چلاگیا ہے اور امریکہ میں عیاشی کررہا ہے۔ لیکن اسکی ڈاون سائزنگ کی پالیسی نے پاکستان کی صنعتوں وحرفت کو چند ہاتھوں میں فروخت کرکے برباد کردیا ہے اور آج پچھلے دو ماہ میں ایک سو چالیس سے زیادہ صنعتوں کی بندش راشن اور بجلی کی کمی اسکی پرائیوٹائزیشن اور ڈی نیشنلائزیشن کے اقدامات ہیں جس پر اب تک مشرف فخر کرتےنہیں تھکتا اور اب بھی کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں آٹا سستا ترین ہے یہ چوری اوپر سے سینہ زوری ہے جس کے نتیجے میں پاکستان آج اپنی آخری سانس لینے پر مجبور ہوگیا ہے۔

اسی سماجی تباہی نے پاکستان کو آگ اور خون کی خانہ جنگی کی نظر کردیا ہے اور تمام قبائل اور وزیرستان بھی آج سامراجی عزائم کی تکمیل کرتے کرتے خون میں لت پت ہوچکا ہے پہلے انہی قبائل کو افغانستان کے ثور انقلاب کے خلاف امریکی سامراج کے حکم اور وسائل سے جنگ کا رن وئے اور ہیلی پیڈ بنایاگیا۔ یہاں افغانستان کے انقلاب کو تباہ کرنے کے لیے بنیاد پرستی کے مدرسے اور جنگ کی تربیت کےکیمپ بھی تعمیر کئے جہاں خود کش حملوں کے لیے غریب، بے روزگار اور بے کس نوجوانوں کے زہنوں میں بنیاد پرستی کی پسماندگی کا زہر بھرکر انکو تیار کیا جاتا جس کے لیے جنرل ضیاءالحق نے پاکستانی فوج کا ادارہ آئی ایس آئی اسی غرض کے لیے بنایا جس کا سربراہ جنرل گل حمید تھا اور جس نے اس آپریشن کی قیادت کی۔ امریکہ کی براہ راست حمائت اور وسائل سے یہ آئی ایس آئی کا ادارہ پاکستانی فوج کا ایک اعلی اور حکمران ادارہ بن گیا۔ جس پرکسی کا کنٹرول اور بس نہ چلتا تھایہ براہ راست سامراج کے کنٹرول اور اس کے احکامات کی بجاآوری کرتا تھا۔ یہ ریاست کے اندر ایک ریاست تھی جو آج بھی قائم ہے جو ان قبائل کے مدرسوں میں خود کش حملے تیار کرتی تھی۔ بلکہ پاکستانی فوج کے جوان بھی ان کیمپوں میں جو آج دہشت گردی کے کیمپوں سے پکارے جاتے ہیں میں ٹرینگ دی جاتی تھی۔ جو افغانستان میں ثور انقلاب اور روسی فوجوں کے خلاف جہاد کے نام پراس سامراجی جنگ کی آگ میں جھونکے جاتے۔

آئی ایس آئی کو سامراج نے ہی غیر ممالک سے بنیاد پرستوں کی جوماضی کے مجاہدین تھے اور آج دہشتگرد ہیں کی رسد مہیا تھی۔ جو آج پاکستان کے قبائل میں موجود ہیں۔ اسی آئی ایس آئی ، جنرل ضیاء اور پاکستانی فوج نے افغانستان میں بھی بنیاد پرستی کو مضبوط کیا۔ ایک اتنی بڑی جنگ کے لیے امریکہ ان تمام وسائل اور اخراجات کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا اس غرض کے لیے اس نے افغانستان میں پوست کی کاشت اور منشیات کے کاروبار کو فروغ دیا جس کی آمدن سے اس جنگ کے اخراجات پورے کیے جاتے اور اس جنگ کی قیادت کرنے والے پاکستانی جنرلوں اور بنیاد پرستوں کی عیاشی کا سامان مہیا کیا جاتا اور آج جو پاکستانی فوج کی امیر ترین افسرشاہی اور بنیاد پرست طالبان، جماعت اسلامی اور دوسری اسلامی جماعتوں کی بڑی بڑی جائیدادیں اور سرمایہ ہے اسی جنگ کا مرہون منت ہے جس کو یہ آج بھی قائم رکھنے اور بڑھانے کے لیے پاکستان میں خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔ جبکہ یہاں کی مقامی آبادی تو پہلے بھی اور آج بھی ان بنیاد پرست رجعتی دو پاٹوں میں جس میں ایک طرف اسلامی بنیاد پرستی اور دوسری طرف پاکستانی ریاست اور امریکہ ہیں میں پس رہی ہے۔

افغان انقلاب کے خلاف اس جنگ میں اسلامی بنیاد پرستی کو مسلح اور وسائل سے مضبوط کرنے سے یہاں کا پرانا روائتی جرگہ یا قبائلی نظام تباہ ہوگیا کیونکہ اب طاقت کا توازن قبائلی نظام کی بجائے اسلامی بنیاد پرستی کے حق میں ہوچکا تھا جس نے یہاں پہلے سے بھی زیادہ تباہی مچادی تمام قبائل کو ٹوڑ پھوڑ کرانتشار اور شدیدعدم استحکام کا شکار کردیا۔ جس وجہ سے آج شمالی علاقہ جات کو قبائل یا کلاسیکل قبائلی نظام کہنا سراسر غلط ہوگا آج یہاں نہ تو قبائلی نظام موجودہ ہے اور نہ ہی بنیاد پرستی بلکہ ان کے امتراج سے یہاں آج پہلے سے زیادہ پسماندگی، پراگندگی اور تعفن ہے۔ جس میں یہاں کی بےقصورعوام مررہی ہے۔ پہلے بھی ان بےگناہ قبائل کو امریکہ کے حکم پر جہنم بنا دیا گیا اور اب پھر امریکہ کی ہی تابعداری میں آج اس جہنم کی آگ کو تیز کیا گیا ہے اور ان قبائل پر ریاستی مسلح فوجی جارحیت کی جارہی ہے کیونکہ یہاں کی تباہی پر بنیاد پرستی نے اپنے پاؤں جما رکھے ہیں جن کو اب آسانی سے اکھاڑا نہیں جا سکتا کیونکہ اتنا مضبوط کرنے کے بعد آج یہ بنیاد پرستی اپنی مراعات سے آسانی سے دستبردار نہیں ہوگی اور نہ ہی ہورہی ہے جس وجہ سے پاکستانی ریا ست کو مجبوراّ فوجی جارحیت کرنا پڑ رہی ہے آج اس بنیاد پرستی کے اتنے منہ زور ہونے میں ریاست کی اپنی کمزوری، تضادات بحران ہیں جبکہ وسائل کا حصول ڈرگ سے مسلسل حاصل ہورہا ہے۔ جس کا نگران وزیر اعلی سرحد نے اپنی حالیہ تقریرمیں اقرار کیا ہے کہ جب تک انکی ڈرگ سے بے انتہا آمدن کا سد باب نہیں کیا جاتا دہشت گردی کا خاتمہ ناممکن ہے۔

ویسے بھی امریکہ اور پاکستان اس اسلامی دہشت گردی کو ختم کرنا کب چاہتے بلکہ وہ تو صرف اسکو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں جو پچھلے عرصے میں ان کے کنٹرول سے باہر ہوگئی ہے کیونکہ انہوں نے اس جنونیت کو پہلے بھی عوامی تحریکوں کے خلاف استعمال کیا ہے اور آئندہ بھی کرنا چاہتے ہیں اور کریں گے اور آج انہی قبائل سے پاکستانی ریاست ملا اور بنیاد پرست تیار کرکے امریکی مفادات کے لیے چین کو کمزور کرنے کے لیے تبت اور پاکستانی سرحدوں کے ساتھ چین میں بھیجے جاتے ہیں تاکہ چین کی موجودہ بڑھتی سامراجی طاقت کو لگام دیا جاسکے اور دوسری طرف اسی ملا ازم کو مارنے کی عالمی ڈرامہ بازی کی جاتی ہے۔ آج پاکستانی یا عالمی حکمران اس رجعت پرستی کے بغیر اپنا مالیاتی استحصال قائم نہیں رکھ سکتے جس وجہ سے یہ انکے کنٹرول میں نہیں آرہی اور یہ سرچڑھ کر بول رہی ہے پاکستانی اور سامراجی حکمران اس بنیاد پرستی کوآج اپنی ضرورت کے تحت محدود کرنا چاہتے ہیں جو اس بنیاد پرستی کو قابل قبول نہیں جس سے یہ بنیاد پرستی اپنے ہی آقاؤں سے دست وگریبان ہوگئے۔

پاکستانی حکمران انکو نہ صرف کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں بلکہ شکست خودہ بھی ہیں۔ یہی جنگ انہوں نے پہلے بھی دوبار شروع کی لیکن بری طرح شکست ہوئی اب یہ حوصلہ اور جرات ہار کر بیٹھ چکے تھے کہ امریکہ نے چند دن قبل یہ کہہ دیا کہ اگر پاکستانی فوج ان کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے تو پھر امریکہ خود قبائل میں ان کے خلاف آپریشن کرےگا۔ یہ امریکہ کی صرف ایک گیدڑ بھکی تھی کیونکہ امریکہ آج اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ جب چاہے جیسا چاہے کرلے اس بیان اور وائٹ ہاؤس میں میٹنگ کا مقصد مشرف کو اشتعال دلانا تھا۔ جس سے مشرف سمیت تما م حکمران تلملا گئے کیونکہ عوام اور ریا ست پہلے ہی بے لگام ہوتی جارہی ہےاوراگران حالات میں امریکہ قبائل میں جنگ شروع کرتا تو یہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہوتا جس سے پاکستان کا تباہ کن مستقبل اور زیادہ قریب آجانا تھا اس خوف سے پریشان ہوکر مشرف، کیانی اور پاکستانی ریاست نے اس کا بیڑہ پھر سے اور پھور سے یعنی فوراّ اٹھایا اور اپنے ہی علاقوں اور عوام کو فتح کرنے نکل پڑے۔

ویسے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں زیادہ عرصہ عوام کو کسی دوسرے نے نہیں بلکہ اپنی ہی فوج نے فتح کر کے محاصر ے میں رکھا۔ لیکن اس بار قبائل کو فتح کرنے کی اتنی جلدی اس لیے ہے کہ امریکہ میں طاقت کا توازن تبدیل ہورہا ہے کسی جنگی جنرل سے زیادہ جنگی صدر بش کی عوامی حمائت ختم ہورہی ہے ریپبلکن کی بجائے ڈیموکریٹوں کی فتح نمایاں ہورہی ہے جو کہ دہشت گردی کا اڈہ پاکستان کو قرار دیتے ہیں جس کی تمام ذمہ داری یہ صدر بش کے دوست پرویز مشرف پر ڈال رہے ہیں جو اس عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بش کا لاڈلہ ترین ہے۔ جو اسی جنگ میں ناکام ترین بھی ثابت ہوا ہے اس لیے مشرف امریکہ کی بدلتی صورت حال سے سخت پریشان ہے کیونکہ بش اور ریپبلکن کے بعد اسکی حمائت امریکن پارلیمنٹ میں ختم ہوجائےگئی جس کی وجہ سے یہ آج تک قائم ودائم ہے۔ اس کو بش کی ہار میں اپنی ہار اور موت نظر آنے لگی ہے جس وجہ سے یہ قبائل میں ایک بار پھر اپنی پوری طاقت سے حملہ آور ہواہے تاکہ اس بنیاد پرستی کو کنٹرول کرنے کے بعد ہیلری کلنٹن یا ڈیموکریٹوں کی حمائت حاصل کرسکے ورنہ اسکی اقتدار سے بےدخلی یقینی ہے اور مشرف کو یہ کام امریکن الیکشن مکمل ہونے سے پہلے کرنا ہے۔ اس لیے یہ پہلے تمام ترحملوں سے زیادہ اس بار کا حملہ بھیانک اور بے رحم ہے یہ ملکی فوج کی ملکی عوام کے خلاف جنگ ہے جس میں لوگوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح ہلاک کیا جارہا ہے۔ یہ جنگ مشرف کے مستقبل کا فیصلہ کرےگی جس وجہ سے یہ جنگ مشرف کی زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیاہے اور اس بار یہ تمام ریاستی فوجی جبر کواستعمال کرکے اس کو جیتنے کی کوشش کرئےگا۔

لیکن یہ اتنا آسان اور مختصر نہیں ہے کیونکہ یہ گوریلا جنگ ہے جس میں فوج کو کبھی فتح نصیب نہیں ہوگی کیونکہ اس جنگ میں اسلامی انتہا پسندآبادی سے دور رہتے ہیں لیکن یہ رات کو آبادی کے علاقوں میں گھس کر فوج پر حملے کرتے ہیں اور پھر واپس غیرآباد علاقوں میں چلے جاتے ہیں اس حملے سے فوج یہ خیال کرتی ہے کہ دہشت گرد اس علاقے میں ہیں وہ اس بنیاد پر تمام علاقے کو نیست ونابود کردیتی ہے جس وجہ سے اس میں تمام بےگناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور یہ طالبان کے حملہ آور بچ نکلتے ہیں اس سے مقامی آبادی میں فوج کے خلاف نفرت بڑ ھ رہی ہے اور کئی نوجوان فوج کی اس ظالمانہ تباہی اور بربادی کے خلاف طالبان سےجاملتے ہیں اور فوج کے خلاف مذاحمت کرتے ہیں۔ جس سے فوج کے خلاف مذاحمت تیز اور مضبوط ہورہی ہے اور مقامی آبادی کی حمائت بھی فوج کےحق میں ختم ہوچکی ہے اور اس صورتحال میں فوج کتنی بھی مضبوط ہوکامیاب نہیں ہوسکتی۔

اس لیے آج دنیا کی آٹھویں ایٹمی طاقت کی ذلت کے تماشےکا بازار وزیرستان کے پسماندہ قبائل میں گرم ہے۔ اس قبائل کی جنگ میں صرف بڑے پیمانے پر خون ریزی ہی ہوگی اوراگر یہ جنگ لمبی ہوتی ہے تو پورا پاکستان اسکی لیپٹ میں آسکتا ہے اور خود کش حملوں کا عمل تیز ہوگا بلوچستان، سندھ، سرحد میں قومی علیحدگی کی تحریکیں ابھریں گیں۔ جس سے ایک خونی تباہ کن خانہ جنگی شروع ہوگی۔ پاکستانی فوج ناکام اور نامراد ہوگی جو پاکستان کا شرازہ بکھیر دے گی۔ سرمایہ داری، جاگیرداری اور سامراجی دلاگیری پاکستان کو صرف یہی کچھ دے سکتی ہے جو دے رہی ہے۔ فیصلہ اب عوام نے کرنا ہے حکمرانوں نے نہیں انکا وقت گزرچکاہے اور عوام کے فیصلے کا وقت آچکا ہے۔

ہم نے اب ایک چیز کا انتخاب کرنا ہے سوشلزم یا بربریت کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.