قصور کس کا؟
- حجاب جعفری
ہمارے ملک میں بسنے والے زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کی بیشتر پریشانیوں کا باعث موجودہ اور سابقہ سیاستدان ہیں۔ ان کے خیال میں اگر ہمارے ملک کے سیاستدان اچھے ہوتے تو ہمارا ملک بھی برطانیہ اور یورپ کی طرح ہر طرح کی گندگی اور برائی سے پاک ہوتا۔
اُن کے نقطہ نظر سے جگہ جگہ موجود کچرے کے ڈھیر، بارش کے بعد گلیوں میں جمع ہونے والے پانی اور اس میں پیدا ہونے والے مچھر، مچھروں سے پھیلتی بیماریاں، صلاحیت ہونے کے باوجود بغیر رشوت دیے اچھا روزگار حاصل کرنا، جہیز میں لڑکے والوں کی طرف سے کار یا بنگلہ کی ڈیمانڈ کرنا، انصاف کے نام پر قانون کی کھلے عام پامالی کرنا، کسی بھی شخص کی کی عزت، ذاتی دشمنی، چوری کے خلاف مزاحمت، عدالتوں میں سچی گواہی دینے اور بسا اوقات جلن و حسد کی بنا پر دین دیہاڑے قتل کرنا، کسی کی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے گلیوں میں نوجوان لڑکوں کا تیز رفتار موٹر سائیکل چلانا، سڑکوں پر بدنظام ٹریفک کا ہونے کا ذمہ دار صرف ہمارئے ملک کے سیاست دان ہیں۔ جن کے پاس سب سہولیات اور ذرائع ہونے کے باوجود ان کے حل کے لیے کوئی اقدامات نہیں کرتے۔
اس کے برعکس کچھ سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ ”کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی ترقی کے پیچھے اس میں بسنے والی عوام کا تعاون بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ قوانین اور اصولوں کی پاسداری کرنا پوری قوم پر لازم و ملزوم ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک کا صدر یا سیاست سے وابستہ چند افراد پورے ملک کے بگڑتے ہوئے حالات اس وقت تک نہیں بدل سکتے جب تک عوام بھرپور تعاون نہیں کرتی۔
چوری راہزنی، ڈکیتی، لوٹ مار، قتل، رشوت، قوانین کی پامالی، گن پوائنٹ پر موبائل چھیننا یا ان جیسے چھوٹے بڑے جرائم ہم یا آپ میں سے وہ لوگ سرانجام دیتے ہیں جو محنت کرنے سے نو کوس دور بھاگتے ہیں اور راتوں رات امیری اور ہرطرح کے عیش و آرام حاصل کرنے کی خواہش دل میں رکھتے ہیں نہ کہ ایک صدر۔۔۔ سیاستدان کا کام اوپر والے اور بیرونی سطح پر ملک کے کام پورے کرنا اور عوام کا فرض نچلے اور اندرونی سطح پر اپنے اپنے حصے کے کام خوش اسلوبی سے نبھانا ہے۔

|