مذاہب کے قلعے
- عارف قریشی
اگر ہم حقائق سے پردہ پوشی کرنے لگیں تو شتر مرغ کی طرح سر ریت میں چھپا سکتے ہیں لیکن حقیقت کو چھپا نہیں سکتے کہ پاکستان اور اسرائیل دنیا کے دو ممالک ایک نظریہ کے تحت معرض وجود میں آئے۔
اس وقت اسرائیل پوری دنیا کے یہودیوں کا قلعہ ہے اور کسی بھی جگہ اگر یہودیوں کے لئے کوئی مسئلہ کھڑا ہو تو اسرائیل فی الفور میدان میں کود پڑتا ہے اور ان کی خاطر کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا تاہم اسلام کا قلعہ پاکستان مسلمانوں پر ہونیوالے مظالم پر خاموش تماشائی بن کر بیٹھ جاتا ہے۔
سوڈان میں ڈارفر ایک علاقہ ہے جہاں عیسائی اور مسلمان اکھٹے رہتے ہیں مگر مغربی دنیا کے ایماء پر وہاں بغاوت پیدا ہو جاتی ہے اور مغربی دنیا مل کر سوڈان کے خلاف پابندیاں عائد کرنا شروع کر دیتی ہے لیکن اسلام کے قلعے کے لوگ نیند میں رہتے ہیں اور ان کو ان اسلام کے سچے جوانوں کی آہ و فغان سنائی نہیں دیتی کیونکہ اسلام کا قلعہ درحقیقت فتح ہو چکا ہے اسی لئے یہاں سے کوئی بازگشت سنائی نہیں دیتی یہ وہی سوڈانی ہیں جن کے اندر بربری جنگجو قوم رہتی ہے جس نے صلیبی جنگوں میں دشمن کو پچھاڑ پھینکا تھا۔
دوسرا مسئلہ کوسوو کا ہے جس نے آزادی کا اعلان کیا ہے لیکن ابھی تک کوئی اس کو تسلیم کرنے کے لئے تا دم تحریر تیار نہیں ہے۔ کشمیر کے لوگ مر مر کر جی رہے ہیں اور ہم ان کے کاز سے غداری کر رہے ہیں۔ چیچنیا والے تباہ ہو گئے اسلام کی خاطر مگر کسی نے ان کی مدد نہ کی۔ لگتا ہے ہم سوئے ہی رہیں گے کیونکہ قلعے میں خاموشی ہے

|