پاکستان کے غلط نظام کا ذمہ دار کون؟
- حجاب جعفری
پاکستان ہمارا پیارا ملک ہے۔ ہمارے اس پیارے ملک میں ہر خرابی کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ خواہ رشوت ستانی ہو یا گلیوں میں بنے بڑے بڑے گڑھے، چاہے وہ بارش کے بعد گلیوں میں جمع ہونے والا بدبودار پانی ہو یا جگہ جگہ پڑے گندگی کے ڈھیر۔
اس طرح کے روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے لاکھوں مسائل ہیں جن پر ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا ہر فرد اچھا بول تو سکتا ہے لیکن ہم میں سے کوئی بھی ان کے حل کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھاتا۔ ہر کام کی توصیح حکومتی سطح پر چاہتے ہیں۔ کیا ایک پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ہمارا اپنا کوئی فرض نہیں؟ ہم ان سب مسائل کو ختم نا سہی ان کی روک تھام کے لیے کوشش تو کرسکتے ہیں۔ کیا کبھی کسی نے یہ سوچنے کی کوشش کی ہے کہ ایک دوسرے کو یا حکومت کو الزام لگانے کے بجائے ہم لوگوں نے خود کتنا کام کیا ہے؟ کیا کبھی ہم نے یہ سوچنے کی کوشش کی ہے کہ ہم ان سب مسائل کو حل کرسکتے ہیں یا کم از کم ان سب مسائل پر کیسے قابو پا سکتے ہیں۔
میرے خیال میں ہمیں انفرادی طور پر ان مسائل کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جن میں حکومتی نہیں انفرادی کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن میں سرفہرست رشوت ہے۔ اگر ہم میں سے ایک شہری رشوت دے کر اپنا کام کروانے کی بجائے رشوت دینے سے ہی منع کردے اور باقی لوگ بھی اس کی تقلید پر عمل پیرا ہوں تو ہم رشوت پر بآسانی قابو پا سکتے ہیں۔
ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ ہم گھروں کا کچار گلیوں میں پھینکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ کچرے کو گلیوں میں پھینکنے کی بجائے کچرے کے ڈبوں میں ڈالیں۔ اگر ہم گلیوں کی صفائی روزانہ اپنے گھر کی طرح کروائیں تو ہم گندگی سے پیدا ہونے والی بہت سی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔ حضور اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صفائی کو آدھا ایمان قرار دیا ہے مگر ہم اس بات کا بھی خیال نہیں رکھتے اور گلیوں کی صفائی کا مناست انتظام نہیں کرواتے۔ اکثر محلوں میں بچے گلیوں ہی میں کھیلتے ہیں اور صفانی نہ ہونے کی وجہ سے گندگی ہی میں کھیلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ کئی قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ گلیوں کی صفائی کو حکومت پر ڈالنے کی بجائے انفرادی طور پر اس کی صفائی کا انتظام کروائیں۔
ملک بھی ایک گھر کی مانند ہوتا ہے جس کو صرف حکومت کی ہی نہیں بلکہ اس میں بسنے والے ہر شہری کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

|