خدارا میرے بچوں پر ترس کھاؤ -   عاطف علیم

میں تم سے مخاطب ہوں۔ تم جو میرا مینڈیٹ لے کر اورمیری بخشی ہوئی عزت کی چادر اوڑھ کر میرے حاکم بنے ہو۔ اس سے پہلے میں نے تم سے اٹھارہ فروری کوکلام کیا تھا اور نہایت وضاحت سے ایک ایک مسئلہ کھول کر بیان کیا تھا اور یہ بھی بتایا تھا کہ تم نے میرے مسائل کو کیسے حل کرنا ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر کسی غبی کو بھی اتنی تفصیل سے کوئی بات بتاؤ تو وہ اس کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن تم جو اپنے تئیں تھنک ٹینک بنے پھرتے ہو۔ لگتا ہے کہ تمہیں میری اس وقت کی کہی ہوئی کوئی بات بھی ٹھیک سے سمجھ نہیں آئی۔ اسی لئے تم کنفیوز ہو اورمخالف سمت میں دوڑتے دوگھوڑوں پر بیک وقت سواری کرنے کا جتن کررہے ہو۔ میرے دئیے ہوئے مینڈیٹ کے مطابق تمہیں یکسو ہوکر زندہ رہنے میں میرا مدد گار بننا تھا لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری باتوں میں اگر مگر کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔

میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے کان اور تمہارا دھیان میری باتوں پر کم اور ادھر ادھر سے آنے والی آوازوں پر زیادہ لگے ہوئے ہیں۔ تمہارا یہ چلن خود تم سے کیا کرے، یہ تم جانو لیکن مجھے ڈر ہے کہ میرے لئے زندہ رہنا ایک کار بیکار ہوکر رہ جائے گا۔ اس سے پہلے کہ میرا لہجہ بدل جائے اور میں کسی اور انداز اور کسی اور زبان میں تم سے بات کروں۔ میں کوشش کروں گا کہ ایک بار پھر میں تمہیں یاد دلاؤں کہ اٹھارہ فروری کو میں نے کیا کہا تھا۔

مسائل کے ساتھ کیسے نمٹا جاتا ہے، اس کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ انہیں میرٹ کے مطابق حل کردیا جائے جو ذمہ دار حکومتوں کا شیوہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مسائل کے ساتھ ایسی چالاکیاں کی جائیں کہ وہ موجود تو رہیں لیکن دکھائی نہ دیں۔ مسائل سے دھیان ہٹانے کیلئے ازمنہ وسطٰی کے رومن بادشاہوں سے لے کر آج تک کی غیر مقبول اور کمزور حکومتوں نے ہمیشہ یہی کیا ہے کہ نت نئے تماشے گھڑ کر بات ’’رولے گولے‘‘ میں ڈال دی۔ میرے ساتھ بھی اکسٹھ سالوں سے یہی کچھ ہورہا ہے۔ ہوتا یہ رہا ہے کہ اقتدار کی غلام گردشوں میں مشیروں کے نام پر بھرتی کئے ہوئے مالشیوں کو تماشے گھڑنے پر لگا دیا جاتا ہے۔ وہ لوگ ایک نان ایشو تلاش کرتے ہیں اور پھر اس میں ہوا بھرتے اور پیچیدگیاں ٹانکتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ دے اور بندہ لے، اس نان ایشو کی وہ حال دہائی مچائی جاتی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ میرا اگر کوئی مسئلہ ہے تو بس یہی ہے۔ پچھلے سال نو مارچ کو میرے ساتھ کیا ہوا؟ اور پھر تین نومبر، ایمر جنسی پلس، بیک قلم ساٹھ ججوں کو فارغ کردیا جانا اور ان میں سے زیادہ ’’خطرناک‘‘ ججوں کے ساتھ اخلاقی مجرموں سے زیادہ بدتر سلوک کرنا۔ اسی پر بس نہیں بلکہ اس نان ایشو کو سنگین تر بنانے کیلئے اس میں ذاتی عداوتوں اور اناؤں کو بھر دینا، یہ سب کیا تھا؟ جنہوں نے یہ کیا ان کے مقاصد سب پر واضح ہیں۔ وہ ایشوز کو نگاہوں سے اوجھل کرنے کیلئے نان ایشوز کی سیاست کررہے تھے۔

تم نے اس مسئلے کے نام پر مجھ سے ووٹ مانگا تھا یا نہیں اور میں نے تمہیں صرف اس ایک ’’ایشو‘‘ پر ووٹ دیا تھا یا نہیں ، یہ الگ بحث ہے لیکن میرے مینڈیٹ کا تقاضا تھا کہ تم آپس میں مل کر حکومت بناؤ اور پہلا کام یہ کرو کہ بیکار کی اس کِل کِل کو ختم کرو۔ بات شاید اتنی نیت کی نہیں جتنی ہمت کی تھی، تم اس قدرے ڈرے ہوئے لوگ ہو کہ تم چاہو بھی تو کوئی مسئلہ حل نہیں کرسکتے۔ تم میں ہمت ہوتی تواپنی پسند ناپسند کے باوجود اس سادہ سی بات کو سادگی سے حل کرسکتے تھے۔ طریقہ یہ تھا کہ رکاوٹیں دور کرو، جو تم کرسکتے تھے اور مسئلہ حل کرو۔ تمہیں یہ کرنا ہی تھا تاکہ میرے اصل ایشوز اس نان ایشو کی جگہ لے سکتے۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تاحال میرے صبر اور میرے اعصاب کی آزمائش جاری ہے۔

اب میرے ایشوز کی بھی سن لو۔ میرا ایشو یہ ہے کہ جس پارلیمنٹ کو میں نے اپنے مسائل کے حل کیلئے منتخب کیا تھا وہ تمہاری تمام تر طاقت لسان کے باوجود ان دیکھے سایوں کی قید میں ہے اور بنیادی نوعیت کے اختیارات سے بھی محروم ہے۔ مجھے ہر حال میں ایک بااختیار پارلیمنٹ چاہیے جو میرے مفادات کی نگہبانی کرسکے۔ میرا ایشو یہ ہے کہ میرا بلوچستان محروم ہے اور ناراض ہے۔ میں نے اسے پاؤں میں پگڑی رکھ کر بھی منانا ہے۔ عدم تحفظ کا احساس بھی میرا نہایت بنیادی ایشو ہے جس میں کمی ہونے کو نہیں آرہی ہے۔ میرا ایشو تمام محروموں کو ترازو کے برابر تول کے ساتھ تمام حقوق کی فراہمی یقینی بناناہے۔ میرا ایشو ان بے نوا لوگوں کو عزت نفس کا احساس دلانا ہے جنہیں ہمیشہ اچھوت برابر حیثیت دی گئی۔ میرا ایشو روٹی ہے کہ کوئی مٹھی بھر آٹے کیلئے سرگرداں ہے اور کوئی جڑی بوٹیاں کھا کر جان و تن کا رشتہ برقرار رکھنے کے جتن کررہا ہے۔ سو باتوں کی ایک بات کہ میرا سب سے بڑا ایشو یہ ہے کہ مجھے زندہ رہنا ہے لیکن نان ایشوز سے دھیان ہٹے تو ایشوز کی باری بھی آئے۔

یہ تو خیر میں جانتا ہوں کہ میرا اور میرے بچوں کا بال بال قرض میں جکڑا ہوا ہے۔ قرض بھی وہ جو ہم نے کبھی لیا ہی نہیں۔ ہمارے نام پر کسی نے لیا تو ہمیں ہوا تک نہیں لگنے دی گئی۔ لیکن یہ کیا اکٹھے 53سو ارب روپے کا پہاڑ؟ مجھے تو ان اربوں روپے کی ادائیگی کے لالے پڑے ہوئے تھے جو پچھلے سالوں میں بینکوں نے لاڈلوں کو دے کر معاف کردئیے تھے یا جو اللے تللے میں اڑا دئیے گئے تھے۔ میرے بچے اس 53سو ارب روپے کا پہاڑ کیسے اٹھا پائیں گے جو چند ہی سالوں میں چوہے کتر گئے؟

میں تم سے اپنے بچوں کیلئے تعلیم نہیں مانگ رہا۔ میں ان کیلئے کسی بہتر مستقبل کا طالب بھی نہیں ہوں بلکہ یوں کہو کہ میں تم سے بڑی بڑی امیدیں نہیں لگائے بیٹھا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں کسی اور دنیا کا ہوں اور تم کسی اور دنیا کے۔ تم ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر پالیسیاں بنانے والے کیا جانو مجھے اور میرے ایشوز کو۔ جو مسائل میرے ہیں وہ میرے ہیں ان سے نمٹنا بھی میں نے ہے۔ تمہیں میں نے اسمبلیوں میں اس لئے بھیجا تھا کہ کرم کرو اور ایسا ماحول بناؤ کہ نان ایشوز کی سیاست اپنی موت آپ مرجائے تاکہ کوئی اگلی بات کی جاسکے۔ میں نے خیر اور امید سے ابھی اپنا ناطہ نہیں توڑا ہے وگرنہ بات کسی اور لہجے میں ہوتی۔ میں نے توقعات کی چادر بھی نہیں سمیٹی ہے لیکن میرے پاس بہت زیادہ وقت نہیں ہے۔ میرا ہر مسئلہ فوری اور سنگین نوعیت کا ہے اور فوری حل کا متقاضی ہے۔ میں زیادہ دیر نان ایشوز کی عیاشیاں افورڈ نہیں کرسکتا۔ زندہ مجھے بھی رہنا ہے اور میرے بچوں کو بھی لیکن اس کسمپرسی میں نہیں کہ میرے لئے اپنے ہاتھوں اپنی جان لینا قابل ترجیح ٹھہرے۔

میں زندہ رہنا چاہتا ہوں تاکہ اپنے ملک کی خشک پڑتی رگوں کو اپنی محنت کے پسینے سے تر کرسکوں۔ اپنی ہڈیوں کا سرمہ بیچ کراس لوٹ مار کا تاوان ادا کرسکوں جس میں جانے کب کب کون کون شامل رہا ہے۔ میرے بچوں کا زندہ رہنا بھی اس لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی عمر کے تمام ماہ و سال رہن رکھ کر ان جرموں کا کفارہ ادا کرسکیں جو انہوں نے کئے ہی نہیں۔ میری تم سے بس اتنی سی درخواست ہے کہ ججوں کی بحالی کے معاملے کو اتنا طول نہ دو کہ میں تو میں میرے بچے بھی اس کا بھگتان بھگتنے میں ہلکان ہوجائیں۔ خدارا! میرے بچوں پر ترس کھاؤ اور اس ملک سے نان ایشوز کی سیاست کو ہمیشہ کیلئے دفن کردو۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.