بے حسی
- حجاب جعفری
بے حسی کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز سے بلکل لاتعلق ہوجانا اور کسی بھی خوشی یا غم کے بغیر کسی ردعمل کو سہہ جانا۔
جب کسی انسان کے اندر بےحسی پیدا ہو جاتی ہے تو وہ اچھے برے اور اپنے پرائے سب میں تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ اس میں کسی بھی رشتے کی پہچان اور اُن کی عزت ختم ہو جاتی ہے۔ کِسی کے دکھ درد میں شریک ہونا تو درکنار اُن کے بارے میں سوچنے سے بھی گریز کرتا ہے۔
آہستہ آہستہ ہم لوگ بھی بےحس ہوجاتے ہو رہے ہیں۔ ہمارے دل سخت ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی مثال کچھ اس طرح ہے۔ چاہے کسی عزت دار کی لٹی ہوئی عزت ہو، ماں کی اجڑی ہوئی گود ہو، ننھے معصوم بچوں کی طرف بڑھتا ہوا یتیمی کا سایہ ہو، بم دھماکے کے بعد خون میں ڈوبے ہوئے لاشوں کے انمبار ہوں، جگہ جگہ بکھرے ہوئے انسانی اعضاء ہوں۔ ہمارے اوپر اس طرح یا اس سے بڑے سے بڑے سانحے کا اثر بھی دو منٹ سے زیادہ نہیں رہتا۔ اس کے بعد ہم لوگ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
ہم لوگ انسانی قدروں کہ بھولتے جا رہے ہیں۔ رشتے داروں کی جگہ روپے پیسے نے لے لی ہے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نا ہونے کی حد تک مفلوج ہو چکی ہے۔ ایک دوسرے کی برداشت کا مادہ ختم ہو رہا ہے۔ محبت، نفرت میں، خلوص بےرخی اور برائی میں تبدیل ہو رہا ہے۔ رشتوں کے تقدس کی پامالی ہو رہی ہے۔
روزِ حشر جب سب کو نامہ اعمال ملے گا تو ہم سے ایک سوال حقوق العباد کے بارے میں بھی کیا جائے گا۔ مگر ہم اس پر غوروفکر کرنے اور اعمال کرنے کے بجائے بےحسی کا لبادہ اُوڑھے دنیاداری میں مگن ہیں۔

|