قدم لکیر سے باہر نہ جاپڑے
- عاطف علیم
یہ جو ہم آمریت کو ہر دم پانی پی پی کر کوستے رہتے ہیں تو کیوں؟ اس لئے کہ یہ نام ہے چند رویوں کے تسلط کا جس کے نتیجے میں معاشرے کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ چونکہ اس میں ایک زاویہ نگاہ اپنے سے مختلف طرز فکر کو دبانے اور فنا کردینے کی دیوانگی کا شکار ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اس میں ہر ناروا کو بذریعہ آرڈی نینس روا قرار دے دیا جاتا ہے۔ جو ہونا چاہیے اسے نہیں ہونے دیا جاتا اور جو نہیں ہونا چاہیے اسے سرکار کے بھونپو ناگزیر قرار دینے کو مرے جاتے ہیں۔ تو اگر آمریت اس جرم میں قابل گردن زدنی ٹھہرے کہ اس کی وجہ سے معاشرہ توازن سے محروم ہوکر اپنے مدار سے ہٹ جاتا ہے تو پھر کوئی اور ایسا طرز عمل کیوں اختیار کرے جو معاشرتی توازن کی نفی ٹھہرے؟
توازن جو عربی زبان کی فصاحت کا جامہ زیب تن کرے تو عدل کہلائے، اپنی اصل میں ہے کیا؟۔ کوئی دانشمند یہی بتائے گا کہ توازن نام ہے کسی خاص چیز کا کسی خاص وقت میں کسی خاص جگہ پر ہونا۔ ٹائم اینڈ سپیس کا جھگڑا پڑا نہیں کہ جمہوریت کی جگہ آمریت آبرا جمان ہوئی اور حساسیت کا پوچھو تو اس کا یہ عالم کہ ایک قدم بھی لکیر سے باہر پڑا تو سمجھو راہ کھوٹی ہوئی اور سارا سفر اکارت گیا۔
صرف ایک قدم کا کیا مذکور محترم چیف جسٹس صاحب کے سفر کوئٹہ میں تو جانے کتنے قدم تھے جو توازن کی حساسیت کو مجروح کرنے کا باعث بن رہے تھے۔ ہمارے ممدوح کا کوئٹہ شہر میں استقبال یقینا ایک دل گرما دینے والے نظارہ تھا۔ یہ بھی بھلا ہوا کہ اس میں کئی ایسی سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے جھنڈے لہرانے کا موقع مل گیا جنہوں نے خود کو اٹھارہ فروری کے عظیم عوامی فیصلے سے لاتعلق رکھنا مناسب جانا تھا۔ یہ بھی درست کہ سول سوسائٹی جس کا ابہام زدہ وجود کبھی میری محدود سمجھ میں نہیں سما سکا کو اپنی ’’سودا کاری‘‘ حیثیت میں بہتری لانے کا بھی حسب سابق خوب موقع ملا۔ وکلاء کی تحریک نے تو خیر اپنے عظیم الشان ہونے کا اظہار کرنا ہی تھا سو خوب کیا۔ جو حضرات اس تحریک کے روح رواں ہیں انہیں بھی نوزائیدہ پارلیمنٹ اور نئی نویلی حکومت جو بیچاری اس روز بمشکل حلف ہی اٹھا پائی تھی کو اپنے مسل دکھانے کا موقع میسر ہوا۔ میلہ خوب سجا تھا لیکن اس بے موسمی تہوار کا جواز اگر کسی کی سمجھ میں آسکا ہو تو میرے علم میں بھی اضافہ کرکے ثواب دارین حاصل کرے۔
آج سے پہلے تک کی میری تحریریں گواہ ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں جو آزاد عدلیہ کے قیام اور معزول ججوں کی بحالی کیلئے سادہ لوحی کی حد تک پرجوش رہے ہیں۔ وکلا کی تحریک کا تو خیر میں اب بھی شدید مداح ہوں لیکن جس گروہ کو سول سوسائٹی کے نام سے منسوب کیا ہے اس کے بارے میں تمام تر شکوک کے باوجود میں ذہنی طور پر ہر اس احتجاج میں شامل رہا ہوں جو تین نومبر سے پہلے کی عدلیہ کی بحالی کیلئے کیا گیا۔ میں نے جب بھی لکھا یہی لکھا کہ نو مارچ ہماری تاریخ کا اہم ترین سنگ میل تھا اور اس روز چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے حرف انکار نے معاشرے پر چھائی نا امیدی، بےحسی اور بزدلی کی چادر کو تار تار کیا اور یہ حرف انکار آنے والے تمام زمانوں میں ہمارے سفر کا عنوان بن کر زندہ رہے گا۔
اگر ہماری تاریخ میں نو مارچ برپا نہ ہوتا تو ہم کبھی بند گلی سے باہر نہ نکل پاتے اور جو خوش آئند منظر نامہ آج ہماری آنکھوں کے سامنے ہے یقینا اس کی صورت وہ نہ ہوتی جو آج ہے۔اور پھر ایک حرف انکار ہی پر کیا موقوف، ہمارے ذی وقار ججوں نے جس طرح مہینوں اپنے بچوں سمیت قید سخت کی کٹھنائیوں کو اپنی جان پر جھیلا اور ہمارے قابل قدر وکلا نے پیٹ پر پتھر باندھ کر جس طرح بے رحم طرز فکر کا مقابلہ کیا اور اپنے ناقابل شکست عزم سے اسے دھول چاٹنے پر مجبور کیا۔ اسے سراہے بغیر ہم رہ ہی نہیں سکتے۔ ہمارے سر ان سیاسی کارکنوں کی دلاوری کے سامنے بھی ہمیشہ خم رہیں گے جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر ہمارے اندر زندگی کی حرارت بھر دی۔ ہم اس لہو کو بھی نہیں بھول سکتے جس نے اس بے مثال تحریک کے دوران پیاسی زمینوں کو سیراب کیا اور آنسو گیس کے وہ مرغولے بھی ہم کیسے بھول سکتے ہیں جو سولہ کروڑ لوگوں کی آنکھوں کو آنسوؤں سے بھر دیتے تھے۔ ضرور بالضرور کہ آج ہم جمہوریت کے جس رخ روشن کے روبرو ہیں وہ انہی یادگار قربانیوں کا شاخسانہ ہے۔
لیکن اب جبکہ ایک مضبوط پارلیمنٹ وجود میں آچکی ہے جو عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی بحالی کو اپنی پہلی ترجیح قرار دے چکی ہے، نیلے پیلے جھنڈوں اور کالے کوٹوں کی نمائش کا کیا مقصد ہے؟ اگر جواز پارلیمنٹ پر دباؤ بر قرار رکھنا ہے تو کم از کم میری دانست میں تو یہ ایک غیر متوازن رویہ ہے۔ کیا ہمارے لئے یہ مناسب نہیں کہ ہم اس مینڈیٹ پر اعتماد کریں جو وکلا کی تحریک کی قربانیوں کا ثمر ہے؟ پارلیمنٹ نے تو ابھی تک اپنی بالادستی بھی حاصل نہیں کی۔ وہ آزادانہ فیصلے کرنے کے قابل تو ہولے۔ اس کے بعد آپ بھلے اس پر دباؤ ڈالیں یا اس کے خلاف تحریک چلائیں۔ اور پھر یہ تیس دن کے کاؤنٹ ڈاؤن کا معاملہ کیا ہے؟ اگر خدانخواستہ تیس سے اکتیسواں دن ہوگیا توکیا ہوگا؟ زمین شک ہوجائے گی یا قیامت اپنی آمد کا بگل بجا دے گی؟
توازن کا مطلب ہی یہ ہے کہ کسی خاص چیز کا کسی خاص وقت میں کسی خاص جگہ پر ہونا۔ اس کا علم کسی سے بھی زیادہ ہمارے معزز چیف جسٹس کو ہوسکتا ہے کہ وہ عدل بمعنی توازن کے محافظ ہیں۔ انہیں خطاب کی دعوت دینے والوں اور ان کیلئے جلوسوں کا اہتمام کرنے والوں کیلئے مناسب ترین رویہ یہی تھا کہ وہ پارلیمنٹ پر دباؤ بڑھانے سے گریز کرتے ہوئے اسے آزادانہ ماحول میں اپنے وعدے پورے کرنے کی مہلت دیتے۔ اٹھارہ فروری سے پہلے تو ضروری تھا کہ چیف صاحب کو احساس دلایا جاتا کہ ’’چیف تیرے جانثار۔ بے شمار بے شمار‘‘ لیکن آج یہ نعرہ ان کے رفیع الشان منصب سے لگاؤ نہیں کھاتا۔ اور پھر سننے والوں نے سنا کہ جلوس سجانے والے اس سے بھی آگے بڑھ کر ’’نعرہ افتخار۔جئے افتخار‘‘ جیسے نہ سمجھ میں آنے والے نعرے لگا رہے تھے۔ کیا اس قسم کے نعرے جو ایک جج کے منصب کے منافی ہیں محض محبت کا جذباتی اظہار ہیں یا اس ملک میں ایک اور کلٹ کی آمد کا پیش خیمہ ہیں؟
وکلا کے رہنماؤں کو اس بارے میں ضرور سوچنا چاہیے۔ جناب چیف جسٹس صاحب ہمارے محسن بھی ہیں اور یقینامستقبل میں وہ ہیرو بن کر زندہ رہیں گے لیکن صرف مستقبل میں ، آج نہیں۔آج وہ صرف اور صرف ایک جج ہیں۔توازن کا تقاضا ہے کہ اب جبکہ ان کی بحالی نوشتہ دیوار ہے۔وکلا رہنما انہیں ہیرو کی طرح پیش نہ کریں۔ ماضی میں وقت کا تقاضا کچھ اور تھا لیکن آج تقاضے بھی بدل چکے ہیں۔ ہیرو شپ ایک نہایت سیاسی جاب ہے اور یہ صرف سیاسی لوگوں کیلئے ہی روا ہے۔ کل کلاں کو شاید جسٹس افتخار محمد چودھری ایک متبادل قیادت کے طور پر قوم کے بہت کام آئیں لیکن آج ہمیں بری بھلی اسی قیادت پر اکتفا کرنا ہے جسے عوام نے اپنی تقدیر بدلنے کیلئے منتخب کیا ہے۔
|