تبت کا مسئلہ -   عارف قریشی

پہاڑوں کے دامن میں چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع تبت کو دنیا کی چھت کہا جاتا ہے۔ اس کی آبادی تقریباچھبیس لاکھ ہے جو بارہ لاکھ مربع کلومیٹر کے کوہستانی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے۔

بیشتر آبادی بدھ مذہب میں یقین رکھتی ہے اور یہاں کی بدھ خانقاہیں اپنی مخصوص روایات اور طرزِ تعمیر کے لۓ مشہور ہیں۔

تبت ایک پر امن ملک رہا ہے۔ یہاں روایتی طور پر مذہبی رہنماء جنہیں دلائی لامہ کہا جاتا ہے روحانی اور حکومتی سربراہ بھی ہیں۔

انیس سو اکیاون میں چین کے ہزاروں فوجی دارالحکومت لہاسہ میں داخل ہوئے اور تب سے وہ تبت پر قابض ہیں۔ سن انیس سو انسٹھ میں مقامی آبادی نے چینی قبضے کے خلاف بغاوت کی لیکن چین نے انتہائی سختی سے یہ بغاوت کچل دی۔

اُس وقت تبت کے روحانی اور حکومتی سربراہ چودہویں دلائی لامہ تھے۔ وہ تبت سے فرار ہو کر ہندوستان آ گئے جہاں اُنہیں سیاسی پناہ دی گئی۔

ہندوستان نے اُس وقت سے اب تک تبت کو ایک آزاد خطےکی حیثیت سے تسلیم کیا تھا۔ دلائی لامہ اپنے ہزاروں حامی تبتی پناہ گزینوں کے ساتھہ ہماچل پردیش کی دھرم شالہ میں مقیم رہے ہیں۔

چین کے قبضے کے خلاف متعدد تبتی باشندوں نے اپنا وطن چھوڑ دیا اور آج پوری دنیا میں تقریباً ایک لاکھ تبتی پناہ گزیں ہیں جو اپنے وطن کی آزادی کے انتظار میں ہیں۔ دلائی لامہ نے گذشتہ چالیس برسوں سے چین کے قبضے کے خلاف عدم تشدد پر مبنی تحریک چلا رکھی ہے۔

اُنہوں نے ایک بار کہا تھا کہ یہ گذشتہ دو ہزار برس کے دوران ہماری تاریخ کا بد ترین باب ہے۔

مبصرین کے مطابق اس بات کے حقیقی خطرات موجود ہیں کہ تبتی قوم اپنے مخصوص ثقافی اور تہذیبی ورثے کے ساتھہ ہمیشہ کے لئے فنا ہو جائے۔ موجود صورتحال اتنی سنگین ہے کہ تبتیوں کے لئے زندگی اور موت کا سوال بن گئی ہے۔



Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.